اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے حالیہ میزائل حملوں، جن میں اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، نے خطے میں سکیورٹی کی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ اسرائیل کے دفاعی نظام کے لیے بھی ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔
لبنانی اخبار البناء نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ اردن پر ایران کے میزائل حملے کو محض روایتی جوابی کارروائی قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ خطے میں طاقت کے توازن اور جنگی حکمت عملی میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حملے کا وقت، راستہ اور اہداف اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایران کا مقصد صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ایک واضح اسٹریٹجک پیغام دینا بھی تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اردن کے شہر عقبہ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ یہ اسرائیل کے حساس سکیورٹی دائرے سے متصل ایک اسٹریٹجک مقام ہے۔ ماضی میں اردن صرف ایرانی میزائلوں کے گزرنے کا راستہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ خود خطے کی نئی سکیورٹی معادلات کا حصہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اردن کی فضائی حدود میں ایرانی میزائلوں کو روکنے کی کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ تل ابیب ان حملوں کو اپنی داخلی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ تصور کرتا ہے۔ اسرائیلی عسکری حکمت عملی میں خطرے کا اندازہ صرف سرحدوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ کوئی حملہ اس کے دفاعی حصار کے کتنے قریب پہنچتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے ان حملوں کے ذریعے نہ صرف امریکی اور اسرائیلی دفاعی نظام کے ردعمل، رابطہ کاری اور فضائی دفاع کی صلاحیت کا عملی جائزہ لیا بلکہ ایسی معلومات بھی حاصل کیں جو آئندہ عسکری منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں اردن خود براہ راست فریق نہیں بلکہ ایک ایسے میدان میں تبدیل ہو گیا ہے جہاں علاقائی طاقتیں اپنے پیغامات ایک دوسرے تک پہنچا رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں اردن کو مستقبل میں مزید سکیورٹی اور سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ایران کی یہ حکمت عملی جاری رہی تو خطے میں جنگ کے روایتی اصول بدل سکتے ہیں، جہاں سیاسی سرحدوں کی اہمیت کم اور عسکری و اسٹریٹجک اہداف کی اہمیت زیادہ ہو جائے گی۔
آپ کا تبصرہ